السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20185
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَمَى الْجَمْرَةَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ ". قَالَ الْمُعَلَّى: " وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: " لِإِمَامٍ ظَالِمٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا، جس وقت جمرہ کو مارا گیا کہ ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔“