السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَارِئُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَنْزَةَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْمُقْرِئُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: أَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ، وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ، وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ، وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ⦗١٥٦⦘ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ". لَفْظُ حَدِيثِهِ عَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيِّ.عبداللہ بن صامت سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے دوست ﷺ نے مجھے سات چیزوں کی وصیت کی: ”1۔ میں اس کی طرف دیکھوں جو مجھ سے کمتر ہے، اس کی طرف نہ دیکھوں جو مجھ سے بہتر ہے۔ 2۔ مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا حکم دیا۔ 3۔ میں کسی سے سوال نہ کروں۔ 4۔ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھے پیچھے ہی چھوڑ دیں۔ 5۔ حق کہوں اگرچہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ 6۔ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کروں۔ 7۔ میں اکثر «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے اور نہ قوت“ کہتا رہوں کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“