السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20184
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرَ اللهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ، لَا يَقُومُ بِهِ، فَيَلْقَى اللهَ فَيَقُولَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا "؟ قَالَ: قَالَ: يَا رَبِّ، إِنِّي خَشِيتُ النَّاسَ، قَالَ: قَالَ: " إِيَّايَ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَى ". وَتَابَعَهُ زُبَيْدٌ وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے کہ اللہ کا جو حکم ہے اس کے لیے اس میں کوئی بات ہو کہ وہ اسے نہ کرے۔ وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے فلاں دن فلاں کام کیوں نہ کیا؟ وہ عرض کرے گا: اے اللہ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ زیادہ حق اس بات کا تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔“