السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لِيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى يَسْأَلَ: مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ مُنْكَرًا أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللهُ الْعَبْدَ حُجَّتَهُ، قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجَوْتُكَ، وَخِفْتُ النَّاسَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت قیامت کے دن اپنے بندے سے پوچھے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: ”جب تو نے برائی کو دیکھا تو تو نے (اس سے) منع کیوں نہ کیا؟“ جب اللہ رب العزت اپنے دلائل کو بندے پر ڈالیں گے تو بندہ کہے گا: ”میں تجھ سے امید رکھتا تھا اور لوگوں سے ڈرتا تھا۔““