السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20182
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْجِهَادُ ثَلَاثَةً، فَأَوَّلُ مَا يَغْلِبُ عَلَيْهِ الْيَدُ، ثُمَّ اللِّسَانُ، ثُمَّ الْقَلْبُ، فَإِذَا كَانَ الْقَلْبُ لَا يَعْرِفُ حَقًّا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا نُكِّسَ، فَجُعِلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ ". هَذَا مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
ابو جحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جہاد کی تین اقسام ہیں: اول جس پر ہاتھ غالب ہو، پھر زبان، پھر دل؛ جب دل حق اور منکر کی پہچان نہ کر سکے تو اس کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا جاتا ہے۔