السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20181
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى أَنْ رَحَلْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَمَلَأْتُ مَسَامِعَهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ.حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر اس بات کا تذکرہ کیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ وہ بات ہے جس نے مجھے ابھارا کہ میں کوچ کر کے معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ میں نے تبادلہ خیال کیا، پھر میں واپس پلٹا۔