السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20162
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍالْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَمَا وُلُّوا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمن کے دائیں جانب اور رحمن کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں، وہ لوگ جو اپنے فیصلوں، اپنے گھر والوں اور جس کے وہ والی ہیں، (ان میں) انصاف کرتے ہیں۔“