السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي ⦗١٥٠⦘ خُطْبَتِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى، وَمُسْلِمٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ، الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ، لَا يَتَّبِعُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ، وَإِنْ دَقَّ، إِلَّا خَانَهُ، وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ"" وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرَ الْفَاحِشَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ: " ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ".سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، انہوں نے حدیث کا ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت کی تین اقسام ہیں: ایک وہ میانہ رو بادشاہ جو صدقہ کرنے والا اور توفیق یافتہ ہو، دوسرا وہ نرم دل آدمی جو ہر قریبی رشتہ دار کے لیے (نرم دل) ہو، تیسرا وہ غریب آدمی جو پاک دامن اور صدقہ کرنے والا ہو۔ اور جہنمیوں کی پانچ اقسام ہیں: پہلا وہ کمزور آدمی جس کو عقل نہ ہو، وہ لوگ جو تمہارے تابع ہیں جو اپنے اہل و مال کو بھی تلاش نہیں کرتے، دوسرا وہ خائن آدمی اگرچہ حقیر چیز کی ہی خیانت کرتا ہو، تیسرا وہ آدمی جو صبح و شام تیرے اہل و مال کے بارے میں تجھ سے دھوکا کرتا ہے، چوتھا بخل اور کذب کا تذکرہ بھی کیا، اور پانچواں بداخلاق انسان۔“
(ب) قتادہ کی روایت میں ہے کہ ”انصاف کرنے والا حکمران۔“