السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20163
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدَلِّهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: " وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ، وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں کی دعا اللہ رد نہیں فرماتا: 1۔ انصاف کرنے والا حکمران، 2۔ روزہ دار جب تک وہ افطار نہ کرے اور 3۔ مظلوم کی دعا؛ بادل ہٹا دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ رب العزت فرماتا ہے: ضرور میں اس کی مدد کروں گا اگرچہ ایک وقت کے بعد ہی سہی۔“