السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، فَاجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: " إِنِّي أَخَافُ اللهَ "، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا، حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.ابو سعید خدری یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات آدمیوں کو اللہ اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جب کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا: (1) انصاف کرنے والا حکمران۔ (2) نوجوان جو جوانی میں اللہ کی عبادت کرے۔ (3) وہ بندہ جس کا دل مسجد سے معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں واپس لوٹے۔ (4) دو آدمی اللہ کے لیے محبت کرنے والے اور اسی کے لیے نفرت کرنے والے۔ (5) تنہائی میں اللہ کا ذکر کر کے رونے والا۔ (6) وہ آدمی جس کو خوبصورت عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہہ دے: ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔“ (7) پوشیدہ صدقہ کرنے والا، یعنی دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو پتا بھی نہ چلے۔“