السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَمَرَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِكَبْشٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " اخْتِلَافُ فَتَاوِيهِ فِي ذَلِكَ، وَفِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ابْنَهُ، يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ اسْتِدْلَالًا وَنَظَرًا، لَا أَنَّهُ عَرَفَ فِيهِ تَوقِيفًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجھے خبر ملی کہ انہوں نے فرمایا: اگر وہ مجھ پر اصرار کرتا (اور عذر پیش کرتا) تو میں اس کو ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیتا۔
ایک دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے اس جیسے مسئلے میں ایک مینڈھے (کی قربانی) کا حکم دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر ماننے والے کے بارے میں ان کے فتووں کا مختلف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہ بات استدلال اور غور و فکر سے کہتے تھے، نہ یہ کہ انہیں اس بارے میں کوئی نص (توقیف) معلوم تھی، واللہ اعلم۔