حدیث نمبر: 20086
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي ⦗١٢٧⦘ رَجُلٌ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ أَخَاهُ، فَإِنْ كَلَّمَهُ فَهُوَ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بَيْنَ الْمَقَامِ وَالرُّكْنِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، أَبْلِغْ مَنْ وَرَاءَكَ أَنَّهُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، لَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يَصُومَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ، كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ فَصَلَّى، كَانَ خَيْرًا لَهُ، مُرْ صَاحِبَكَ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيُكَلِّمْ أَخَاهُ ". هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُنْقَطِعٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ فلاں آدمی نے اپنے بھائی سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی ہے کہ اگر اس نے کلام کر لی تو وہ ایامِ تشریق کے اندر مقامِ ابراہیم اور رکن کے درمیان اپنے آپ کو ذبح کرے گا۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! دوسروں کو بھی بتاؤ، ”نافرمانی کے اندر نذر نہیں ہوتی۔“ اگر کسی نے رمضان کے روزے نہ رکھنے کی قسم کھائی ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر نماز پڑھنے کی قسم اٹھائی ہے تو نماز پڑھنا اس کے لیے بہتر ہے، اپنے ساتھی کو کہو کہ قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20086
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»