حدیث نمبر: 20084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي "، قَالَ: وَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْجِهَادِ، وَمعهُ أَبَوَاهُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُشْتَغِلٌ يَقُولُ لَهُ: " أَقِمْ مَعَ أَبَوَيْكَ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي "، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " مَا أَصْنَعُ بِكَ؟ اذْهَبْ فَانْحَرْ نَفْسَكَ "، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الرَّجُلِ وَأَبَوَيْهِ قَالَ: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "، فَذَهَبُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ بَرَكَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، يُرِيدُ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ، فَجَاءُوا بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " وَيْحَكَ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحِلَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنْ تُحِلَّ بَلَدًا حَرَامًا، وَتَقْطَعَ رَحِمًا حَرَامًا - نَفْسَكَ أَقْرَبَ الْأَرْحَامِ إِلَيْكَ، وَأَنْ تَسْفِكَ دَمًا حَرَامًا، أَتَجِدُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ؟ "، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَانْحَرْ فِي كُلِّ عَامٍ ثُلُثًا، لَا يَفْسَدُ اللَّحْمُ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَرِوَايَةُ ابْنِ نُمَيْرٍ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ كُرَيْبٌ: " فَشَهِدْتُهُ عَامَيْنِ، فَأَمَّا الثَّالِثُ، فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلَ "، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَبَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " لَوِ اعْتَلَّ عَلَيَّ، لَأَمَرْتُهُ بِكَبْشٍ،.
حافظ ثناء اللہ

کریب رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت ایک آدمی تھا جو جہاد کے لیے جانا چاہتا تھا، اس کے والدین بھی موجود تھے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرما رہے تھے: والدین کے ساتھ رہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ (نذر ماننے والا) کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں کیا کروں؟ جاؤ اپنے آپ کو قتل کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آدمی اور اس کے والدین سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ وہ گئے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ وہ اس کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تو نے تین اشیاء کو حلال کرنے کی کوشش کی ہے: 1۔ حرمت والے شہر کی حرمت کو ختم کرنا، 2۔ قطع رحمی کرنا، یعنی تیرا اپنا نفس سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق رکھتا ہے، 3۔ اور حرام خون بہانا۔ کیا تیرے پاس سو اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: جاؤ ہر سال اونٹوں کا تہائی حصہ ذبح کرو لیکن گوشت خراب نہ کرنا۔
(ب) کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو سال تک میں حاضر ہوتا رہا، لیکن تیسرے سال میں حاضر نہ ہوا، مجھے معلوم نہیں اس نے (ایسا) کیا یا نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20084
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»