السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 20046
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْمَشْيِ، فَحَنَثَ بِالْمَشْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ؟ فَأَفْتَاهُ بِكَفَّارَةِ يَمِينٍ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: " بِهَذَا تَقُولُ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ "، فَقَالَ: " هَذَا قَوْلُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي "، قَالَ: " مَنْ هُوَ؟ "، قَالَ: " عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ".حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پیدل چل کر حج کرنے کے بارے میں پوچھا کہ (اگر وہ) اپنی قسم پوری نہ کر سکا تو کیا وہ قسم کا کفارہ دے؟ تو وہ آدمی کہنے لگا: اے ابو عبد اللہ! کیا آپ یہ کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کی بات ہے جو مجھ سے بہتر تھے۔ اس نے پوچھا: وہ کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ۔