السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 20045
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ خَشْكُنَانَةُ الْبَلْخِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُوسَى الْخَنْبُ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَبِيبٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، أَوْ مَالِهِ فِي الْمَسَاكِينِ، أَوْ فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ: " أَنَّهَا يَمِينٌ، يُكَفِّرُهَا إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”آدمی پیدل چل کر حج کرنے کی قسم اٹھاتا ہے یا یہ کہ اس کا مال مسکینوں میں صدقہ ہے یا کعبہ کی تعمیر میں ہے تو یہ قسم ہے، اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔“