السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 20047
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ، ثنا هَيْثَمٌ يَعْنِي: ابْنَ خَارِجَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ وَحَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُمَا قَالَا فِيمَنْ قَالَ: " هُوَ مُحْرِمٌ بِحَجَّةٍ "، فَحَنَثَ: " فِيهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِهَذَا الْقَوْلِ يُشْبِهُ أَنْ يَحْتَجَّ بِمَا.حافظ ثناء اللہ
منصور نے حسن رحمہ اللہ سے اور حجاج نے عطاء رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے کہا کہ وہ حج کا احرام باندھے گا، پھر حانث ہو گیا کہ اس پر قسم کا کفارہ ہے۔