السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ الْعَجْمَاءِ مَوْلَاتَهُ قَالَتْ: " هِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ مُحَرَّرٌ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا هَدْيٌ إِنْ لَمْ يُطَلِّقِ امْرَأَتَهُ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكُمَا "، فَأَتَى زَيْنَبَ فَانْطَلَقَتْ مَعَهُ، فَقَالَتْ: " هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ "، قَالَتْ: " قَدْ عَلِمَ اللهُ مَا قُلْتُ: " كُلُّ مَالٍ لِي هَدْيٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي مُحَرَّرٌ، وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، قَالَ: " فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا كَمَا قَالَتْ زَيْنَبُ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَجَاءَ مَعِي، فَقَامَ بِالْبَابِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَتْ: " بِأَبِي أَنْتَ وَأَبُوكَ "، قَالَ: " أَمِنْ حِجَارَةٍ أَنْتِ؟ أَمْ مِنْ حَدِيدٍ؟ أَتَتْكِ زَيْنَبُ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْكِ حَفْصَةُ "، قَالَتْ: " قَدْ حَلَفْتُ بِكَذَا وَكَذَا "، قَالَ: " كَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، وَخَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِي غَيْرِ الْعِتْقِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُمَا مِنْ وَجْهٍ ⦗١١٤⦘ آخَرَ: " أَنَّ الْعِتَاقَ يَقَعُ "، وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَأَنَّ الرَّاوِيَ قَصَّرَ بِنَقْلِهِ فِي رِوَايَةِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهَا فِي الْوَقْتِ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلیٰ بنت عجمہ ان کی لونڈی تھی۔ کہنے لگی: یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے، اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال صدقہ ہے، اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق نہ ہوئی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں تو یہ ان کے ساتھ چلی۔ کہتی ہیں: کیا یہاں ہاروت و ماروت ہیں؟ کہتی ہیں: اللہ جانتا ہے جو میں نے کہا کہ میرا تمام مال صدقہ ہے اور تمام غلام آزاد ہیں اور یہ یہودیہ یا عیسائیہ ہے۔ فرماتی ہیں کہ تم مرد اور عورت کا راستہ صاف کر دو۔ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جب اس نے سلام کہا تو کہنے لگی: میرے اور تیرے باپ کی قسم! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تو پتھر یا لوہے سے بنی ہے؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے تیرے پاس سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو روانہ کیا تھا۔ کہتی ہیں: میں نے فلاں فلاں قسم کھائی ہے۔ کہنے لگے: اپنی قسم کا کفارہ دے اور مرد اور عورت کا راستہ چھوڑ دے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔