❮
❯
حدیث نمبر: 20044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ الْعَجْمَاءِ مَوْلَاتَهُ قَالَتْ: " هِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ مُحَرَّرٌ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا هَدْيٌ إِنْ لَمْ يُطَلِّقِ امْرَأَتَهُ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكُمَا "، فَأَتَى زَيْنَبَ فَانْطَلَقَتْ مَعَهُ، فَقَالَتْ: " هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ "، قَالَتْ: " قَدْ عَلِمَ اللهُ مَا قُلْتُ: " كُلُّ مَالٍ لِي هَدْيٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي مُحَرَّرٌ، وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، قَالَ: " فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا كَمَا قَالَتْ زَيْنَبُ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَجَاءَ مَعِي، فَقَامَ بِالْبَابِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَتْ: " بِأَبِي أَنْتَ وَأَبُوكَ "، قَالَ: " أَمِنْ حِجَارَةٍ أَنْتِ؟ أَمْ مِنْ حَدِيدٍ؟ أَتَتْكِ زَيْنَبُ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْكِ حَفْصَةُ "، قَالَتْ: " قَدْ حَلَفْتُ بِكَذَا وَكَذَا "، قَالَ: " كَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، وَخَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِي غَيْرِ الْعِتْقِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُمَا مِنْ وَجْهٍ ⦗١١٤⦘ آخَرَ: " أَنَّ الْعِتَاقَ يَقَعُ "، وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَأَنَّ الرَّاوِيَ قَصَّرَ بِنَقْلِهِ فِي رِوَايَةِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهَا فِي الْوَقْتِ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلیٰ بنت عجماء ان کی مالکہ تھی۔ کہنے لگی: یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے، اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال ہدی (قربانی) ہے، اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق نہ ہوئی۔ ابورافع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ ان کے ساتھ چلیں۔ کہتی ہیں: کیا یہاں ہاروت و ماروت ہیں؟ وہ کہنے لگی: اللہ جانتا ہے جو میں نے کہا کہ میرا تمام مال ہدی ہے اور تمام غلام آزاد ہیں اور یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے۔ (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: تم مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی طرح پیغام بھیجا کہ مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جب انہوں نے سلام کہا تو وہ کہنے لگی: میرا باپ آپ پر اور آپ کے والد پر قربان! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تو پتھر سے بنی ہے یا لوہے سے؟ تیرے پاس سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے تیرے پاس پیغام بھیجا۔ کہتی ہے: میں نے فلاں فلاں قسم کھائی ہے۔ فرمانے لگے: اپنی قسم کا کفارہ دے اور مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ گویا راوی نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں اسے نقل کرنے میں کوتاہی کی، یا اس وقت اس کا کوئی غلام نہ تھا، اس لیے انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20044
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»