حدیث نمبر: 20043
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا غَالِبٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَتْ مَوْلَاتِي: " لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: " إِنَّ مَوْلَاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي "، فَقَالَتْ: " انْطَلِقْ إِلَى مَوْلَاتِكَ، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكِ "، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ فَقَالَ: " هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: " فَمَا تَأْكُلِينَ "؟ قَالَتْ: وَقُلْتُ: " وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ "، فَقَالَ: " إِنْ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَمَجَّسْتِ قُتِلْتِ "، فَقَالَتْ: " فَمَا تَأْمُرُنِي؟ "، قَالَ: " تُكَفِّرِي يَمِينَكِ، وَتَجْمَعِي بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ ".
حافظ ثناء اللہ

بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میری لونڈی نے کہا: میں تیرے اور تیری بیوی کے درمیان ضرور تفریق کرواؤں گی، اس کا تمام مال کعبہ کی تعمیر کے لیے ہے اور وہ یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہو اگر تیرے اور تیری بیوی کے درمیان جدائی نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے کہا: میری لونڈی ہمارے درمیان جدائی چاہتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جاؤ اس سے کہو، تیرے لیے یہ جائز نہیں ہے۔ میں واپس پلٹ کر آیا۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، وہ دروازے تک آئے اور فرمانے لگے: کیا یہاں «هَارُوتُ وَمَارُوتُ» ”ہاروت و ماروت“ ہیں؟ وہ لونڈی کہنے لگی: میں نے اپنا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: تم کیا کھاؤ گی؟ وہ کہتی ہے: میں یہودیہ یا عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی، انہوں نے فرمایا: اگر تو یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی تو قتل کر دی جائے گی، تو وہ عورت کہنے لگی: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو جمع کر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20043
درجۂ حدیث محدثین: صحيح تقدم
تخریج حدیث «صحيح تقدم»