السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَةٍ لَهُ شَيْءٌ، فَحَلَفَتْ مَوْلَاةٌ لَهُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١١٣⦘ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ مَوْلَاتَهُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: " هِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهَا حُرٌّ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَعَلَيْهَا الْمَشْيُ فِي بَيْتِ اللهِ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا "، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَحَفْصَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ، فَكُلُّهُمْ قَالَ لَهَا: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَكُونِي مِثْلَ هَارُوتَ، وَمَارُوتَ؟ "، وَأَمَرُوهَا أَنْ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا، وَتُخَلِّيَ بَيْنَهُمَا. لَفْظُ حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ وَحَدِيثُ رَوْحٍ مُخْتَصَرٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَفْصَةَ.بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے اور ایک عورت کے درمیان اختلاف تھا تو ان کی لونڈی نے قسم اٹھا لی۔
(ب) بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی تھی، اس نے ارادہ کیا کہ ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے، وہ کہنے لگی: یہ ایک دن یہودی اور ایک دن عیسائی ہوتی ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال اللہ کے راستے میں ہے اور اس کے ذمہ پیدل چل کر بیت اللہ کا حج بھی ہے، اگر ان کے درمیان تفریق نہ ہو۔ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کیا تمہارا ارادہ ہے کہ تم مجھے ہاروت و ماروت کی طرح بنا دو؟ انہوں نے اس کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو اور ان کا راستہ صاف کر دو۔