السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 20037
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنْ شَيْءٍ كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ ذِي قَرَابَةٍ لَهَا، فَحَلَفَتْ إِنْ كَلَّمَتْهُ، فَمَالُهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا ⦗١١٢⦘ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
منصور بن عبدالرحمن اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک آدمی یا عورت نے ان سے سوال کیا جو ان کے قرابت والوں کے درمیان تھی، اس نے قسم اٹھائی کہ اگر ان سے بات کی تو اس کا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا جائے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔