حدیث نمبر: 20038
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: " لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ، لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کی میراث تھی۔ ایک نے تقسیم کا مطالبہ کر دیا تو دوسرا کہنے لگا: اگر آئندہ سوال کیا تو کلام بھی نہ کروں گا اور تمام مال تعمیرِ کعبہ میں لگا دوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر۔ فرماتے ہیں: ”تیری قسم نہیں، اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، قطع رحمی اور جس کا تو مالک نہیں اس میں قسم کا اعتبار نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20038
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»