السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالَّذِي يَذْهَبُ إِلَيْهِ عَطَاءٌ أَنَّهُ يُجْزِيهِ مِنْ ذَلِكَ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ، قَالَهُ فِي كُلِّ مَا حَنِثَ فِيهِ، سِوَى عِتْقٍ أَوْ طَلَاقٍ، وَهُوَ مَذْهَبُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَمَذْهَبُ عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُمْ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور عطاء رحمہ اللہ جس مؤقف کی طرف گئے ہیں وہ یہ ہے کہ اس (صورت) میں اسے قسم کا کفارہ کافی ہو گا، اور جس نے یہ قول اختیار کیا ہے اس نے یہی بات ہر اس چیز کے بارے میں کہی ہے جس میں وہ حانث ہو جائے، سوائے غلام آزاد کرنے یا طلاق کے، اور یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب ہے، اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے متعدد حضرات کا بھی یہی مذہب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَإِنْسَانٌ يَسْأَلُهَا عَنِ الَّذِي يَقُولُ: كُلُّ مَالٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ كُلُّ مَالٍ لَهُ فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، مَا يُكَفِّرُ ذَلِكَ؟ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: " يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ "..منصور بن عبدالرحمن جو بنو عبدالدار سے ہیں، اپنی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ایک انسان کے متعلق سوال ہوا جو کہتا ہے کہ میرا مال اللہ کے راستے میں ہے یا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں ہے، اس کا کیا کفارہ ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کا کفارہ قسم والا ہی ہے۔