حدیث نمبر: 20005
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَسَنٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ قُدَمَاءِ مَوَالِي قُرَيْشٍ وَأَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالصَّلَاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَةً تَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفلٍ تَسْتَفْتِيهِ فِي غُلَامٍ لَهَا، ابْنِ زِنْيَةٍ فِي رَقَبَةٍ كَانَتْ عَلَيْهَا قَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَوْفَلٍ: " لَا أَرَاهُ يَقْضِي الرَّقَبَةَ الَّتِي عَلَيْكِ عِتْقُ ابْنِ زِنْيَةٍ " قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَوْفَلٍ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَأَنْ أُحْمَلَ عَلَى نَعْلَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ابْنَ زِنْيَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو حسن جو عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں اور وہ قدیم قریشی غلاموں اور اہل علم اور صلاح پسند لوگوں میں سے تھے، انہوں نے ایک عورت سے سنا جو عبداللہ بن نوفل سے کہہ رہی تھی کہ میرے ذمہ گردن کا آزاد کرنا ہے اس کے بارے میں بتائیں، تو عبداللہ بن نوفل نے فرمایا: ”حرامی بچے کی گردن آزاد کرنے سے تو بری الذمہ نہ ہوگی۔“ ابن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”میں جوتے اللہ کے راستے میں دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کر دوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20005
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»