السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: التخيير بين الإطعام والكسوة والعتق، فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام باب: کھانا کھلانے، کپڑا پہنانے اور غلام آزاد کرنے کے درمیان اختیار کا بیان، پس جو ان کی طاقت نہ رکھے وہ تین دن کے روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 20006
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي آيَةِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، قَالَ: " هُوَ بِالْخِيَارِ فِي هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ الْأُوَلِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ " وَفِي رِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ⦗١٠٣⦘ قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ أَوْ فَهُوَ مُخَيَّرٌ، فَإِذَا كَانَ لَمْ يَجِدْ، فَهُوَ الْأَوَّلُ الْأَوَّلُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کفارہِ قسم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ پہلی تین چیزوں میں اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ نہ پائے تو پھر تین دن کے مسلسل روزے رکھنا ہیں۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی «أو» «أو» (یا، یا) آیا ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے، اور جہاں (یہ ہو کہ) وہ نہ پائے تو پھر ترتیب ہے، پہلے پہلی چیز پھر اس کے بعد والی۔