السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في إعتاق ولد الزنا باب: ولد الزنا کو آزاد کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20004
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ، وَقَالَ: " قَدْ أَمَرَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمُنَّ عَلَى مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ "، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً} [محمد: ٤] ". وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حرامی بچہ آزاد کیا اور کہا: ”اللہ اور رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم برے لوگوں پر احسان کریں،“ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ [سورة محمد: 4] ”احسان کرنا یا فدیہ لینا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اس کو ناپسند فرماتے تھے۔