السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19858
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ، فَلَا طَلَاقَ لَهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ مَا لَا يَمْلِكُ، فَلَا عَتَاقَةَ لَهُ، وَمَنْ نَذَرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ فَلَا نَذْرَ لَهُ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةِ اللهِ، فَلَا يَمِينَ لَهُ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى قَطِيعَةِ رَحِمٍ، فَلَا يَمِينَ لَهُ "، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ تُخَالِفُ الرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسی طلاق دی جس کا وہ مالک نہیں تو اس کی طلاق نہیں، جس نے وہ غلام آزاد کیا جس کا وہ مالک نہیں تو اس کی آزادی نہیں، جس نے ایسی نذر مانی جس کا وہ مالک نہیں تو اس کے ذمہ نذر پوری کرنا نہیں ہے، جس نے اللہ کی نافرمانی کی قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں اور جس نے قطع رحمی پر قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں ہے۔“