السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ هُوَ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: لَا لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَمِينَ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَلَا فِيمَا لَا يُمْلَكُ "، فَتْوَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكَفَّارَةِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْخَبَرِ لَا يَمِينَ يُؤْمَرُ بِالْمُقَامِ عَلَيْهَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَى الْبِرِّ فِيهَا إِذَا كَانَتْ فِي مَعْصِيَةٍ لَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ لَا تَجِبُ بِالْحِنْثِ فِيهَا وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ أَيْضًا بِمَا.سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کے درمیان میراث تھی، ایک نے دوسرے سے وراثت کی تقسیم کا سوال کر دیا تو دوسرا کہنے لگا: اگر تو نے آئندہ تقسیم کا سوال کیا میں تیرے ساتھ کبھی کلام نہ کروں گا، بلکہ سارا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دوں گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم یا نذر اللہ کی ناراضگی میں نہیں ہے، قطع رحمی اور جس کا مالک نہیں اس میں بھی قسم نہیں ہے۔“
فتویٰ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے ایسی قسم جو اللہ کی اطاعت کی خاطر توڑی جائے اس میں کفارہ نہیں ہے۔