السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ، وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمِهِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْهَا، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا "، وَرُوِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس چیز میں نذر اور قسم نہیں جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے، اور اللہ کی نافرمانی اور قطع رحمی میں بھی کوئی قسم نہیں، اور جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو قسم کو چھوڑ دے، قسم کا چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے۔“