السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: لا جلب ولا جنب في الرهان باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”شرط کے مقابلوں میں جلب (پیچھے سے شور مچانا) اور جنب (ساتھ دوسرا گھوڑا دوڑانا) جائز نہیں“۔
حدیث نمبر: 19780
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: مَا تَفْسِيرُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا الْجَلَبُ، فَأَنْ يَتَخَلَّفَ الْفَرَسُ فِي السِّبَاقِ، فَيُحَرَّكَ وَرَاءَهُ الشَّيْءُ يُسْتَحَثُّ بِهِ، فيَسَبِقُ، فَهَذَا الْجَلَبُ، وَأَمَّا الْجَنَبُ، فَإِنَّهُ يُجْنَبُ مَعَ الْفَرَسِ الَّذِي يُسَابِقُ بِهِ فَرَسٌ آخَرُ، حَتَّى إِذَا دَنَى تَحَوَّلَ رَاكِبُهُ عَلَى الْفَرَسِ الْمَجْنُوبِ فَأَخَذَ السَّبْقَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے اس کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: «الْجَلَبُ» ”جلب“ یہ ہے کہ دوڑ میں گھوڑا پیچھے رہ جائے تو اس کے پیچھے کوئی چیز ہلائی جائے جس سے اسے تیز کیا جائے اور وہ آگے نکل جائے، اور «الْجَنَبُ» ”جنب“ یہ ہے کہ دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ ایک دوسرا گھوڑا پہلو میں رکھا جائے، جب منزل قریب ہو تو اس کا سوار اس دوسرے گھوڑے پر منتقل ہو کر انعام لے لے۔