❮
❯
حدیث نمبر: 19781
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صُدْرَانَ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَائِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَوْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - شَكَّ ابْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا عَلِيُّ قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ السَّبْقَةَ بَيْنَ النَّاسِ "، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُنُقِي مِنْ هَذِهِ السَّبْقَةِ فِي عُنُقِكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ الْمِيطَارَ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالْمِيطَارُ مَرْسَلُهَا مِنَ الْغَايَةِ - فَصُفَّ الْخَيْلَ، ثُمَّ نَادِ: هَلْ مُصْلٍ لِلِجَامِ أَوْ حَامِلٍ لِغُلَامٍ، أَوْ ⦗٣٨⦘ طَارِحٍ لِجِلٍّ، فَإِذَا لَمْ يُجِبْكَ أَحَدٌ، فَكَبِّرْ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَلِّهَا عِنْدَ الثَّالِثَةِ، يُسْعِدِ اللهُ بِسَبَقِهِ مَنْ شَاءُ مِنْ خَلْقِهِ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَهَى الْغَايَةِ، وَيَخُطُّ خَطًّا، يُقِيمُ رَجُلَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ، طَرَفُهُ بَيْنَ إِبْهَامِ أَرْجُلِهِمَا، وَتَمُرُّ الْخَيْلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، وَيَقُولُ لَهُمَا: إِذَا أَخْرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِطَرَفِ أُذُنَيْهِ، أَوْ أُذُنٍ، أَوْ عِذَارٍ، فَاجْعَلُوا السَّبْقَةَ لَهُ، فَإِنْ شَكَكْتُمَا، فَاجْعَلُوا سَبْقَهُمَا نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَرَنْتُمُ الشَّيْئَيْنِ، فَاجْعَلُوا الْغَايَةَ مِنْ غَايَةِ أَصْغَرِ الشَّيْئَيْنِ، وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ "، هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حسن یا خلاس، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں (یہ ابن میمون کو شک ہے) کہ نبی ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! میں نے لوگوں کے درمیان اس دوڑ کا انتظام تمہارے سپرد کیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور سراقہ بن مالک کو بلایا اور فرمایا: ”اے سراقہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کے ذمہ وہ ذمہ داری لگاتا ہوں جو میری ذمہ داری نبی ﷺ نے دوڑ کے بارے میں لگائی تھی؛ جب آپ میطار (یعنی دوڑ کے نقطۂ آغاز) پر پہنچیں تو گھوڑوں کی صفیں بنائیں، پھر آواز دیں: کیا کوئی لگام درست کرنے والا ہے، یا کسی لڑکے کو سوار کرنے والا ہے، یا جھول اتارنے والا ہے؟ جب کوئی ایک بھی جواب نہ دے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہنا، پھر تیسری مرتبہ ان کا راستہ چھوڑ دینا، پھر اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے اس دوڑ کی جیت سے خوش نصیب بنائے۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسافت کی انتہا پر تشریف رکھتے اور ایک لکیر کھینچ لیتے۔ لکیر کے کنارے پر دو آدمی آمنے سامنے کھڑے کر دیتے، لکیر کا سرا ان کے پاؤں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتا اور گھوڑے دونوں آدمیوں کے درمیان سے گزرتے۔ آپ رضی اللہ عنہ دونوں اشخاص سے فرماتے: ”جب ایک گھوڑا دوسرے سے اپنے دونوں کانوں کے کنارے یا ایک کان یا رخسار کے پٹے کے برابر آگے نکل جائے تو دوڑ کی جیت اسی کی ہے۔ اگر تم کو شک پڑ جائے تو انعام دونوں میں آدھا آدھا کر دو۔ جب تم دو چیزوں کو ملا کر دوڑاؤ تو ان دونوں میں سے چھوٹی کی حد کو حد مقرر کرو، اور دوڑ میں «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”جلب اور جنب نہیں ہوتا“ اور اسلام میں «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» ”وٹہ سٹہ (شغار) نہیں ہوتا۔““
یہ سند ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19781
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»