کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”شرط کے مقابلوں میں جلب (پیچھے سے شور مچانا) اور جنب (ساتھ دوسرا گھوڑا دوڑانا) جائز نہیں“۔
حافظ ثناء اللہ
«جَنَب»: ”کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنَ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا عَنْبَسَةُ جَمِيعًا، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ فِي الرِّهَانِ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، وَفِي رِوَايَةِ حُمَيْدٍ، " لَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑ دوڑ میں «الْجَلَبُ» (کسی شخص کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنا تاکہ اسے تیز دوڑنے پر ابھارتا رہے) اور «الْجَنَبُ» (کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے) کی اجازت شرط میں نہیں ہے۔“
(ب) حمید کی روایت میں ہے کہ ”«الْجَلَبُ» اور «الْجَنَبُ» اور «الشِّغَارُ» (یعنی وٹہ سٹہ کی شادی) اسلام میں جائز نہیں ہے۔“
(ب) حمید کی روایت میں ہے کہ ”«الْجَلَبُ» اور «الْجَنَبُ» اور «الشِّغَارُ» (یعنی وٹہ سٹہ کی شادی) اسلام میں جائز نہیں ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " الْجَلَبُ وَالْجَنَبُ فِي الرِّهَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھوڑ دوڑ کی شرط میں «الْجَلَبُ» (یعنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے کسی کو پیچھے رکھنا) اور «الْجَنَبُ» (یعنی کسی کو گھوڑے سمیت اپنے ساتھ رکھنا پہلے کے تھک جانے کی صورت میں اس پر سواری کی جا سکے) جائز نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: مَا تَفْسِيرُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا الْجَلَبُ، فَأَنْ يَتَخَلَّفَ الْفَرَسُ فِي السِّبَاقِ، فَيُحَرَّكَ وَرَاءَهُ الشَّيْءُ يُسْتَحَثُّ بِهِ، فيَسَبِقُ، فَهَذَا الْجَلَبُ، وَأَمَّا الْجَنَبُ، فَإِنَّهُ يُجْنَبُ مَعَ الْفَرَسِ الَّذِي يُسَابِقُ بِهِ فَرَسٌ آخَرُ، حَتَّى إِذَا دَنَى تَحَوَّلَ رَاكِبُهُ عَلَى الْفَرَسِ الْمَجْنُوبِ فَأَخَذَ السَّبْقَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے اس کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: «الْجَلَبُ» ”جلب“ یہ ہے کہ دوڑ میں گھوڑا پیچھے رہ جائے تو اس کے پیچھے کوئی چیز ہلائی جائے جس سے اسے تیز کیا جائے اور وہ آگے نکل جائے، اور «الْجَنَبُ» ”جنب“ یہ ہے کہ دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ ایک دوسرا گھوڑا پہلو میں رکھا جائے، جب منزل قریب ہو تو اس کا سوار اس دوسرے گھوڑے پر منتقل ہو کر انعام لے لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صُدْرَانَ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَائِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَوْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - شَكَّ ابْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا عَلِيُّ قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ السَّبْقَةَ بَيْنَ النَّاسِ "، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُنُقِي مِنْ هَذِهِ السَّبْقَةِ فِي عُنُقِكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ الْمِيطَارَ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالْمِيطَارُ مَرْسَلُهَا مِنَ الْغَايَةِ - فَصُفَّ الْخَيْلَ، ثُمَّ نَادِ: هَلْ مُصْلٍ لِلِجَامِ أَوْ حَامِلٍ لِغُلَامٍ، أَوْ ⦗٣٨⦘ طَارِحٍ لِجِلٍّ، فَإِذَا لَمْ يُجِبْكَ أَحَدٌ، فَكَبِّرْ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَلِّهَا عِنْدَ الثَّالِثَةِ، يُسْعِدِ اللهُ بِسَبَقِهِ مَنْ شَاءُ مِنْ خَلْقِهِ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَهَى الْغَايَةِ، وَيَخُطُّ خَطًّا، يُقِيمُ رَجُلَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ، طَرَفُهُ بَيْنَ إِبْهَامِ أَرْجُلِهِمَا، وَتَمُرُّ الْخَيْلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، وَيَقُولُ لَهُمَا: إِذَا أَخْرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِطَرَفِ أُذُنَيْهِ، أَوْ أُذُنٍ، أَوْ عِذَارٍ، فَاجْعَلُوا السَّبْقَةَ لَهُ، فَإِنْ شَكَكْتُمَا، فَاجْعَلُوا سَبْقَهُمَا نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَرَنْتُمُ الشَّيْئَيْنِ، فَاجْعَلُوا الْغَايَةَ مِنْ غَايَةِ أَصْغَرِ الشَّيْئَيْنِ، وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ "، هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن یا خلاس، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں (یہ ابن میمون کو شک ہے) کہ نبی ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! میں نے لوگوں کے درمیان اس دوڑ کا انتظام تمہارے سپرد کیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور سراقہ بن مالک کو بلایا اور فرمایا: ”اے سراقہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کے ذمہ وہ ذمہ داری لگاتا ہوں جو میری ذمہ داری نبی ﷺ نے دوڑ کے بارے میں لگائی تھی؛ جب آپ میطار (یعنی دوڑ کے نقطۂ آغاز) پر پہنچیں تو گھوڑوں کی صفیں بنائیں، پھر آواز دیں: کیا کوئی لگام درست کرنے والا ہے، یا کسی لڑکے کو سوار کرنے والا ہے، یا جھول اتارنے والا ہے؟ جب کوئی ایک بھی جواب نہ دے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہنا، پھر تیسری مرتبہ ان کا راستہ چھوڑ دینا، پھر اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے اس دوڑ کی جیت سے خوش نصیب بنائے۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسافت کی انتہا پر تشریف رکھتے اور ایک لکیر کھینچ لیتے۔ لکیر کے کنارے پر دو آدمی آمنے سامنے کھڑے کر دیتے، لکیر کا سرا ان کے پاؤں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتا اور گھوڑے دونوں آدمیوں کے درمیان سے گزرتے۔ آپ رضی اللہ عنہ دونوں اشخاص سے فرماتے: ”جب ایک گھوڑا دوسرے سے اپنے دونوں کانوں کے کنارے یا ایک کان یا رخسار کے پٹے کے برابر آگے نکل جائے تو دوڑ کی جیت اسی کی ہے۔ اگر تم کو شک پڑ جائے تو انعام دونوں میں آدھا آدھا کر دو۔ جب تم دو چیزوں کو ملا کر دوڑاؤ تو ان دونوں میں سے چھوٹی کی حد کو حد مقرر کرو، اور دوڑ میں «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”جلب اور جنب نہیں ہوتا“ اور اسلام میں «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» ”وٹہ سٹہ (شغار) نہیں ہوتا۔““
یہ سند ضعیف ہے۔
یہ سند ضعیف ہے۔