السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: لا جلب ولا جنب في الرهان باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”شرط کے مقابلوں میں جلب (پیچھے سے شور مچانا) اور جنب (ساتھ دوسرا گھوڑا دوڑانا) جائز نہیں“۔
حدیث نمبر: 19779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " الْجَلَبُ وَالْجَنَبُ فِي الرِّهَانِ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھوڑ دوڑ کی شرط میں «الْجَلَبُ» (یعنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے کسی کو پیچھے رکھنا) اور «الْجَنَبُ» (یعنی کسی کو گھوڑے سمیت اپنے ساتھ رکھنا پہلے کے تھک جانے کی صورت میں اس پر سواری کی جا سکے) جائز نہیں ہے۔