السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: لا جلب ولا جنب في الرهان باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”شرط کے مقابلوں میں جلب (پیچھے سے شور مچانا) اور جنب (ساتھ دوسرا گھوڑا دوڑانا) جائز نہیں“۔
حدیث نمبر: 19778
حافظ ثناء اللہ
«جَنَب»: ”کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنَ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا عَنْبَسَةُ جَمِيعًا، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ فِي الرِّهَانِ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، وَفِي رِوَايَةِ حُمَيْدٍ، " لَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑ دوڑ میں «الْجَلَبُ» (کسی شخص کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنا تاکہ اسے تیز دوڑنے پر ابھارتا رہے) اور «الْجَنَبُ» (کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے) کی اجازت شرط میں نہیں ہے۔“
(ب) حمید کی روایت میں ہے کہ ”«الْجَلَبُ» اور «الْجَنَبُ» اور «الشِّغَارُ» (یعنی وٹہ سٹہ کی شادی) اسلام میں جائز نہیں ہے۔“