السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: الرجلين يستبقان بفرسيهما، ويخرج كل واحد منهما سبقا، ويدخلان بينهما محللا على أنه إن سبقهما المحلل، كان ما أخرجاه له، وإن سبق أحدهما المحلل أحرز ماله، وأخذ مال صاحبه باب: دو آدمیوں کا اپنے گھوڑوں کی دوڑ کروانے، دونوں کا اپنی طرف سے انعام نکالنے اور اپنے درمیان ایک حلال کرنے والے (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کرنے کا بیان کہ اگر وہ تیسرا شخص ان دونوں سے آگے نکل گیا تو وہ انعام اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس تیسرے سے آگے نکل گیا تو وہ اپنا مال بھی محفوظ رکھے گا اور اپنے ساتھی کا مال بھی لے لے گا۔
حدیث نمبر: 19773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " الرِّهَانُ فِي الْخَيْلِ جَائِزٌ إِذَا أُدْخِلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، إِنْ سَبَقَ أَخَذَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَغْرَمْ شَيْئًا، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْمُحَلِّلُ شَبِيهًا بِالْخَيْلِ فِي النَّجَاءِ وَالْجَوْدَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے، جو فقہاء سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: گھڑ دوڑ میں شرط لگانا جائز ہے، جب کوئی تیسرا گھوڑا شامل کیا جائے۔ اگر وہ جیت جائے تو شرط کی رقم وصول کرے گا۔ اگر ہار گیا تو اس پر چٹی نہ ڈالی جائے گی اور یہ تیسرا گھوڑا ایسے گھوڑے کے مشابہ ہے جو رہائی دلانے والا ہے۔