کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دو آدمیوں کا اپنے گھوڑوں کی دوڑ کروانے، دونوں کا اپنی طرف سے انعام نکالنے اور اپنے درمیان ایک حلال کرنے والے (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کرنے کا بیان کہ اگر وہ تیسرا شخص ان دونوں سے آگے نکل گیا تو وہ انعام اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس تیسرے سے آگے نکل گیا تو وہ اپنا مال بھی محفوظ رکھے گا اور اپنے ساتھی کا مال بھی لے لے گا۔
حدیث نمبر: 19770
بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَسْتَبِقَانِ بِفَرَسَيْهِمَا، وَيَخْرُجُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا سَبْقًا، وَيُدْخِلَانِ بَيْنَهُمَا مُحَلِّلًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ سَبَقَهُمَا الْمُحَلِّلُ، كَانَ مَا أَخْرَجَاهُ لَهُ، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا الْمُحَلِّلَ أَحْرَزَ مَالَهُ، وَأَخَذَ مَالَ صَاحِبِهِ.
حافظ ثناء اللہ
باب: ان دو آدمیوں کا بیان جو اپنے اپنے گھوڑوں کے ذریعے دوڑ کا مقابلہ کریں، اور ان میں سے ہر ایک (انعام کے لیے) کچھ مال نکالے، اور وہ دونوں اپنے درمیان ایک مُحَلِّل (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کر لیں کہ اگر مُحَلِّل ان دونوں سے آگے نکل جائے تو جو کچھ ان دونوں نے نکالا ہے وہ اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک مُحَلِّل سے آگے نکل جائے تو وہ اپنا مال محفوظ کر لے گا اور اپنے ساتھی کا مال (بھی) لے لے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19770
حدیث نمبر: 19770
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ، فَهُوَ قِمَارٌ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَلَيْسَ بِقِمَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دے جس کے ہارنے کے متعلق مکمل بے خوف ہو تو یہ جوا ہے اور جس نے دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دیا جس کے ہارنے کے متعلق وہ بے خوف نہیں ہے تو یہ جوا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19770
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ كتاب الام 5/ 342»
حدیث نمبر: 19771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ الرَّسْعَنِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، وَابْنُ دُحَيْمٍ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ ⦗٣٥⦘ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَخَافُ أَنْ يُسْبَقَ، فَهُوَ قِمَارٌ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ يَخَافُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ ". تَفَرَّدَ بِهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ أَخْرَجَهُمَا أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دیا جس کے جیتنے کا اس کو یقین ہے تو یہ جوا ہے، اور جس نے دو گھوڑوں کے درمیان تیسرا گھوڑا بھی شامل کر دیا اور اس کی ہار کا بھی خوف ہے تو یہ جوا نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19771
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 19772
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: " لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا أُدْخِلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبْقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھڑ دوڑ میں شرط لگانے میں کوئی حرج نہیں، جب کوئی تیسرے گھوڑے کو بھی شامل کر لیں۔ اگر وہ جیت گیا تو شرط وصول کر لے گا۔ اگر ہار گیا تو پھر اس پر کچھ بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19772
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 19773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " الرِّهَانُ فِي الْخَيْلِ جَائِزٌ إِذَا أُدْخِلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، إِنْ سَبَقَ أَخَذَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَغْرَمْ شَيْئًا، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْمُحَلِّلُ شَبِيهًا بِالْخَيْلِ فِي النَّجَاءِ وَالْجَوْدَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے، جو فقہاء سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: گھڑ دوڑ میں شرط لگانا جائز ہے، جب کوئی تیسرا گھوڑا شامل کیا جائے۔ اگر وہ جیت جائے تو شرط کی رقم وصول کرے گا۔ اگر ہار گیا تو اس پر چٹی نہ ڈالی جائے گی اور یہ تیسرا گھوڑا ایسے گھوڑے کے مشابہ ہے جو رہائی دلانے والا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19773
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»