السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19774
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ: " أَرْسَلَ الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ الْخَيْلَ يَوْمًا، قُلْنَا: لَوْ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ: أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَقَدْ رَاهَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهَا سُبْحَةُ جَاءَتْ سَابِقَةً، فَهَشَّ لِذَلِكَ، وَأَعْجَبَهُ "، ⦗٣٦⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابولبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حکم بن ایوب رحمہ اللہ نے ایک دن گھوڑا بھیجا۔ ہم نے کہا: اگر ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان سے سوال کریں گے۔ ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا آپ نبی ﷺ کے دور میں گھوڑ دوڑ میں شرط لگاتے تھے؟ فرمایا: ہاں، بلکہ نبی ﷺ نے ایک گھوڑے پر شرط لگائی جس کو «سُبْحَةَ» کہا جاتا تھا۔ وہ گھوڑا شرط جیت گیا، آپ ﷺ اس وجہ سے خوش بھی ہوئے اور آپ ﷺ کو اچھا بھی لگا۔