السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: الرجلين يستبقان بفرسيهما، ويخرج كل واحد منهما سبقا، ويدخلان بينهما محللا على أنه إن سبقهما المحلل، كان ما أخرجاه له، وإن سبق أحدهما المحلل أحرز ماله، وأخذ مال صاحبه باب: دو آدمیوں کا اپنے گھوڑوں کی دوڑ کروانے، دونوں کا اپنی طرف سے انعام نکالنے اور اپنے درمیان ایک حلال کرنے والے (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کرنے کا بیان کہ اگر وہ تیسرا شخص ان دونوں سے آگے نکل گیا تو وہ انعام اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس تیسرے سے آگے نکل گیا تو وہ اپنا مال بھی محفوظ رکھے گا اور اپنے ساتھی کا مال بھی لے لے گا۔
حدیث نمبر: 19772
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: " لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا أُدْخِلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبْقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھڑ دوڑ میں شرط لگانے میں کوئی حرج نہیں، جب کوئی تیسرے گھوڑے کو بھی شامل کر لیں۔ اگر وہ جیت گیا تو شرط وصول کر لے گا۔ اگر ہار گیا تو پھر اس پر کچھ بھی نہیں ہے۔