السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: الرجلين يستبقان بفرسيهما، ويخرج كل واحد منهما سبقا، ويدخلان بينهما محللا على أنه إن سبقهما المحلل، كان ما أخرجاه له، وإن سبق أحدهما المحلل أحرز ماله، وأخذ مال صاحبه باب: دو آدمیوں کا اپنے گھوڑوں کی دوڑ کروانے، دونوں کا اپنی طرف سے انعام نکالنے اور اپنے درمیان ایک حلال کرنے والے (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کرنے کا بیان کہ اگر وہ تیسرا شخص ان دونوں سے آگے نکل گیا تو وہ انعام اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس تیسرے سے آگے نکل گیا تو وہ اپنا مال بھی محفوظ رکھے گا اور اپنے ساتھی کا مال بھی لے لے گا۔
حدیث نمبر: 19771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ الرَّسْعَنِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، وَابْنُ دُحَيْمٍ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ ⦗٣٥⦘ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَخَافُ أَنْ يُسْبَقَ، فَهُوَ قِمَارٌ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ يَخَافُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ ". تَفَرَّدَ بِهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ أَخْرَجَهُمَا أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دیا جس کے جیتنے کا اس کو یقین ہے تو یہ جوا ہے، اور جس نے دو گھوڑوں کے درمیان تیسرا گھوڑا بھی شامل کر دیا اور اس کی ہار کا بھی خوف ہے تو یہ جوا نہیں۔“