السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: الرجلين يستبقان بفرسيهما، ويخرج كل واحد منهما سبقا، ويدخلان بينهما محللا على أنه إن سبقهما المحلل، كان ما أخرجاه له، وإن سبق أحدهما المحلل أحرز ماله، وأخذ مال صاحبه باب: دو آدمیوں کا اپنے گھوڑوں کی دوڑ کروانے، دونوں کا اپنی طرف سے انعام نکالنے اور اپنے درمیان ایک حلال کرنے والے (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کرنے کا بیان کہ اگر وہ تیسرا شخص ان دونوں سے آگے نکل گیا تو وہ انعام اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اس تیسرے سے آگے نکل گیا تو وہ اپنا مال بھی محفوظ رکھے گا اور اپنے ساتھی کا مال بھی لے لے گا۔
بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَسْتَبِقَانِ بِفَرَسَيْهِمَا، وَيَخْرُجُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا سَبْقًا، وَيُدْخِلَانِ بَيْنَهُمَا مُحَلِّلًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ سَبَقَهُمَا الْمُحَلِّلُ، كَانَ مَا أَخْرَجَاهُ لَهُ، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا الْمُحَلِّلَ أَحْرَزَ مَالَهُ، وَأَخَذَ مَالَ صَاحِبِهِ.باب: ان دو آدمیوں کا بیان جو اپنے اپنے گھوڑوں کے ذریعے دوڑ کا مقابلہ کریں، اور ان میں سے ہر ایک (انعام کے لیے) کچھ مال نکالے، اور وہ دونوں اپنے درمیان ایک مُحَلِّل (تیسرے شخص) کو اس شرط پر شامل کر لیں کہ اگر مُحَلِّل ان دونوں سے آگے نکل جائے تو جو کچھ ان دونوں نے نکالا ہے وہ اس کا ہو گا، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک مُحَلِّل سے آگے نکل جائے تو وہ اپنا مال محفوظ کر لے گا اور اپنے ساتھی کا مال (بھی) لے لے گا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ، فَهُوَ قِمَارٌ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَلَيْسَ بِقِمَارٍ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دے جس کے ہارنے کے متعلق مکمل بے خوف ہو تو یہ جوا ہے اور جس نے دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کر دیا جس کے ہارنے کے متعلق وہ بے خوف نہیں ہے تو یہ جوا نہیں ہے۔“