السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: النهي عن التداوي بالمسكر باب: نشہ آور اشیاء سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19678
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " إِيَّاكُمْ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ "، أَتَى رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تَحْرِقَ هَذَا الْكِتَابَ، وَإِمَّا أَنْ تَقْتُلَ هَذَا الصَّبِيَّ، وَإِمَّا أَنْ تَقَعَ عَلَى هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَإِمَّا أَنْ تَشْرَبَ هَذَا الْكَأسَ، وَإِمَّا أَنْ تَسْجُدَ لِهَذَا الصَّلِيبِ، قَالَ: " فَلَمْ يَرَ فِيهَا شَيْئًا أَهْوَنَ مِنْ شُرْبِ الْكَأسِ، فَلَمَّا شَرِبَهَا سَجَدَ لِلصَّلِيبِ، وَقَتَلَ الصَّبِيَّ وَوَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ، وَحَرَّقَ الْكِتَابَ ". وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے، ایک آدمی کو لایا گیا، اس سے کہا گیا: اس کتاب کو جلاؤ یا یہ بچہ قتل کرو یا اس عورت پر واقع ہو یا پھر شراب کا پیالہ پیو یا اس صلیب کو سجدہ کرو، فرماتے ہیں: اس نے ان سب میں سے سب سے چھوٹا کام شراب کا پی لینا سمجھا، جب اس نے شراب پی لی تو صلیب کو سجدہ، بچے کا قتل، عورت سے بدکاری اور کتاب کا جلانا، یہ سب جرم کر لیے۔