السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: النهي عن التداوي بالمسكر باب: نشہ آور اشیاء سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا أَهْبَطَهُ اللهُ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ: {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: ٣٠]، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللهُ لِلْمَلَائِكَةِ: " هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى نُهْبِطَهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ "، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَتْهُمَا، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: لَا وَاللهِ، لَا نُشْرِكُ ⦗٨⦘ بِاللهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ، حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا، فَوَقَعَا عَلَيْهَا، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ مَا تَرَكْتُمَا مِمَّا أَبَيْتُمَا عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ كَعْبٍ قَالَ: " ذَكَرَتِ الْمَلَائِكَةُ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ " فَذَكَرَ بَعْضَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَهَذَا أَشْبَهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو فرشتے کہنے لگے: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”اے اللہ! کیا تو اس کو (زمین میں) بھیجے گا جو فساد کرے اور خون بہائے زمین میں اور ہم تیری حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“ اے ہمارے رب! ہم بنو آدم سے زیادہ فرمانبردار ہیں، تو اللہ نے فرمایا: ”دو فرشتے لاؤ، ہم انہیں زمین پر اتارتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں وہ کیسے عمل کرتے ہیں۔“ انھوں نے کہا: یہ ہاروت اور ماروت ہیں۔ وہ دونوں زمین پر اتار دیے گئے تو ایک خوبصورت عورت ان کے سامنے ظاہر ہوئی تو ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال شروع کر دیا، وہ کہنے لگی: نہیں، جتنی دیر تم یہ شرکیہ بات نہ کہو گے۔ وہ کہنے لگے: ہم اللہ کی قسم! ہرگز شرک نہ کریں گے۔ پس وہ ان دونوں کے پاس سے چلی گئی اور پھر ایک بچہ اٹھا کر واپس پلٹی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ نہ ہوگا جب تک تم دونوں اس بچے کو قتل نہ کر دو۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم اسے ہرگز قتل نہ کریں گے۔ پھر وہ عورت ایک شراب کا پیالہ لے کر آئی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! پہلے شراب پیو۔ ان دونوں نے شراب کو پی لیا اور نشے میں دھت ہو گئے تو عورت سے بدکاری اور بچے کا قتل دونوں جرم کر لیے۔ جب دونوں نشے سے فارغ ہوئے تو عورت کہنے لگی: اللہ کی قسم! تم نے نشے کی حالت میں وہ جرم کر لیا جس سے میں نے انکار کر دیا تھا، تو اس وقت ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے بارے میں اختیار دیا گیا تو انھوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بنو آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا۔ پھر اس کے مثل بیان کیا۔