حدیث نمبر: 19676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ، أَوْ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ رَجُلًا مِنْ جُعْفِيٍّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَى عَنْ صَنْعَتِهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ: إِنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ.
حافظ ثناء اللہ
طارق بن سوید یا سوید بن طارق جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کے بنانے سے منع فرمایا۔ وہ کہنے لگا: یہ دوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔“
حدیث نمبر: 19677
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا أَهْبَطَهُ اللهُ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ: {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: ٣٠]، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللهُ لِلْمَلَائِكَةِ: " هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى نُهْبِطَهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ "، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَتْهُمَا، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: لَا وَاللهِ، لَا نُشْرِكُ ⦗٨⦘ بِاللهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ، حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا، فَوَقَعَا عَلَيْهَا، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ مَا تَرَكْتُمَا مِمَّا أَبَيْتُمَا عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ كَعْبٍ قَالَ: " ذَكَرَتِ الْمَلَائِكَةُ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ " فَذَكَرَ بَعْضَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَهَذَا أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو فرشتے کہنے لگے: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”اے اللہ! کیا تو اس کو (زمین میں) بھیجے گا جو فساد کرے اور خون بہائے زمین میں اور ہم تیری حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“ اے ہمارے رب! ہم بنو آدم سے زیادہ فرمانبردار ہیں، تو اللہ نے فرمایا: ”دو فرشتے لاؤ، ہم انہیں زمین پر اتارتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں وہ کیسے عمل کرتے ہیں۔“ انھوں نے کہا: یہ ہاروت اور ماروت ہیں۔ وہ دونوں زمین پر اتار دیے گئے تو ایک خوبصورت عورت ان کے سامنے ظاہر ہوئی تو ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال شروع کر دیا، وہ کہنے لگی: نہیں، جتنی دیر تم یہ شرکیہ بات نہ کہو گے۔ وہ کہنے لگے: ہم اللہ کی قسم! ہرگز شرک نہ کریں گے۔ پس وہ ان دونوں کے پاس سے چلی گئی اور پھر ایک بچہ اٹھا کر واپس پلٹی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ نہ ہوگا جب تک تم دونوں اس بچے کو قتل نہ کر دو۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم اسے ہرگز قتل نہ کریں گے۔ پھر وہ عورت ایک شراب کا پیالہ لے کر آئی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! پہلے شراب پیو۔ ان دونوں نے شراب کو پی لیا اور نشے میں دھت ہو گئے تو عورت سے بدکاری اور بچے کا قتل دونوں جرم کر لیے۔ جب دونوں نشے سے فارغ ہوئے تو عورت کہنے لگی: اللہ کی قسم! تم نے نشے کی حالت میں وہ جرم کر لیا جس سے میں نے انکار کر دیا تھا، تو اس وقت ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے بارے میں اختیار دیا گیا تو انھوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بنو آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا۔ پھر اس کے مثل بیان کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بنو آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا۔ پھر اس کے مثل بیان کیا۔
حدیث نمبر: 19678
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " إِيَّاكُمْ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ "، أَتَى رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تَحْرِقَ هَذَا الْكِتَابَ، وَإِمَّا أَنْ تَقْتُلَ هَذَا الصَّبِيَّ، وَإِمَّا أَنْ تَقَعَ عَلَى هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَإِمَّا أَنْ تَشْرَبَ هَذَا الْكَأسَ، وَإِمَّا أَنْ تَسْجُدَ لِهَذَا الصَّلِيبِ، قَالَ: " فَلَمْ يَرَ فِيهَا شَيْئًا أَهْوَنَ مِنْ شُرْبِ الْكَأسِ، فَلَمَّا شَرِبَهَا سَجَدَ لِلصَّلِيبِ، وَقَتَلَ الصَّبِيَّ وَوَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ، وَحَرَّقَ الْكِتَابَ ". وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے، ایک آدمی کو لایا گیا، اس سے کہا گیا: اس کتاب کو جلاؤ یا یہ بچہ قتل کرو یا اس عورت پر واقع ہو یا پھر شراب کا پیالہ پیو یا اس صلیب کو سجدہ کرو، فرماتے ہیں: اس نے ان سب میں سے سب سے چھوٹا کام شراب کا پی لینا سمجھا، جب اس نے شراب پی لی تو صلیب کو سجدہ، بچے کا قتل، عورت سے بدکاری اور کتاب کا جلانا، یہ سب جرم کر لیے۔
حدیث نمبر: 19679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَبَذْتُ نَبِيذًا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، قُلْتُ: اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنُعِتَ لَهَا هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ ". وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَسَّانَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوزے میں نبیذ بنایا، نبی ﷺ داخل ہوئے، وہ جوش مار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری بیٹی بیمار ہوگئی، میں نے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے حرام کردہ چیز میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔“
(ب) حضرت حسان، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے۔ پھر اس کے مثل ذکر کیا ہے۔
(ب) حضرت حسان، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے۔ پھر اس کے مثل ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 19680
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: اشْتَكَى رَجُلٌ مِنَّا بَطْنَهُ، فَوَجَدَ فِيهِ الصُّفْرَ يَعْنِي الْمَاءَ الْأَصْفَرَ، فَأَتَى عَبْدَ اللهِ فَقَالَ: أَنِّي اشْتَكَيْتُ بَطْنِي فَنُعِتَ لِيَ السُّكْرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا پیٹ خراب ہو گیا، زرد پانی پایا گیا تو اسے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، وہ کہنے لگا: میرا پیٹ خراب ہو گیا ہے، میرے لیے شراب یا نشہ آور چیز بنائی گئی ہے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”جو اللہ نے تمہارے اوپر حرام کر دیا، اس میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔“