السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: النهي عن التداوي بالمسكر باب: نشہ آور اشیاء سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَبَذْتُ نَبِيذًا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، قُلْتُ: اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنُعِتَ لَهَا هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ ". وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَسَّانَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوزے میں نبیذ بنایا، نبی ﷺ داخل ہوئے، وہ جوش مار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری بیٹی بیمار ہوگئی، میں نے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے حرام کردہ چیز میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔“
(ب) حضرت حسان، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے۔ پھر اس کے مثل ذکر کیا ہے۔