السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: : صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ وَاقِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: " ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ وَالظِّلِّ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر آدمی پانی کا اور سائے کا زیادہ حق دار ہے، کیونکہ وہ صابر ہوتا ہے۔