السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: : صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شُعْبَةُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَافَرَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْمَلُوا، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، أَوِ الشِّرَى، فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ، فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ مِنْ ذَلِكَ، فَهَمَّ بِهِمْ عُمَرُ ⦗٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يُخْلِفُ اللهُ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ؛ ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کے لوگوں نے سفر کیا، وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے تو ان سے مہمان نوازی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان کو پکڑ کر تکلیف بھی دی۔ دیہاتی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انصاری ڈر گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تکلیف دینے کا قصد کیا اور فرمایا: تم مسافروں سے اونٹوں، بکریوں کے دودھ رات اور دن کے وقت روکتے ہو۔ حالانکہ مسافر پانی کا زیادہ حق دار ہے، جس پر وہ واقع ہوتا ہے۔ یحییٰ بن آدم کی روایت میں ہے کہ انصاری ایک دیہات کے قریب سے گزرے۔ انہوں نے مہمانی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، لیکن انہوں نے زبردستی دودھ دوہ لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دن اور رات کے اوقات میں جانوروں کے دودھ جو اللہ پیدا کرتا ہے روک لیتے ہو۔ مسافر تو پانی کا زیادہ حق دار ہے جو صبر کرنے والا ہے۔