السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: : صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19669
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شُعْبَةُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَافَرَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْمَلُوا، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، أَوِ الشِّرَى، فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ، فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ مِنْ ذَلِكَ، فَهَمَّ بِهِمْ عُمَرُ ⦗٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يُخْلِفُ اللهُ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ؛ ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کے لوگوں نے سفر کیا، وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے تو ان سے مہمان نوازی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان کو پکڑ کر تکلیف بھی دی۔ دیہاتی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انصاری ڈر گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تکلیف دینے کا قصد کیا اور فرمایا: تم مسافروں سے اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں کا وہ دودھ روکتے ہو جو اللہ رات اور دن پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ مسافر اس پانی کا وہاں رہنے والے سے زیادہ حق دار ہے۔