السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: : صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19671
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ آدَمَ -، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَهْلَ مَاءٍ، فَاسْتَسْقَاهُمْ، فَلَمْ يَسْقُوهُ حَتَّى مَاتَ عَطَشًا، فَأَغْرَمَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِيَتَهُ "..حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی چشمہ والوں کے پاس آیا، اس نے ان سے پانی طلب کیا، لیکن انہوں نے اسے پانی نہ دیا بلکہ وہ پیاسا ہی مر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر چٹی کے طور پر دیت ڈال دی۔