السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل للمضطر من مال الغير باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ: " خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ "، قَالَ: " يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ "، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ: " لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا "، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ: " اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.سیدنا ابو رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک غلام انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتے تھے۔ نبی ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں غلام ہماری کھجوروں کو پتھر مارتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہیں پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“