❮
❯
حدیث نمبر: 19664
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ: " خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ "، قَالَ: " يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ "، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ: " لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا "، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ: " اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچپن میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتا تھا۔ نبی ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19664
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»