السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل للمضطر من مال الغير باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي، نُرِيدُ الْهِجْرَةَ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُونِي فِي ظَهْرِهِمْ وَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ، فَأَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ، فَأَصَبْتَ مِنْ ثِمَارِ حَوَائِطِهَا، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَقَطَعْتُ قِنْوَيْنِ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ وَهُمَا مَعِي، فَذَهَبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ " فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: " خُذْهُ "، وَأَمَرَ صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَأَخَذَ الْآخَرَ، وَخَلَّى سَبِيلِي. وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ - إِنْ ثَبَتَتْ - كَانَتْ دَالَّةً مَعَ غَيْرِهَا عَلَى جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ مَالِ الْغَيْرِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ، ثُمَّ وُجُوبِ الْبَدَلِ فَمُسْتَفَادٌ مِنَ الدَّلَائِلِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدِ اسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حِينَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَ مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ حَتَّى أَتَى بِهَا، وَأَخَذُوا مِنْ مَائِهَا، وَالْمَزَادَتَانِ كَمَا هُمَا، لَمْ تَزْدَادَا إِلَّا امْتِلَاءً، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا مِنْ زِادِهِمْ حَتَّى مَلَأَ لَهَا ثَوْبَهَا.سیدنا ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقاؤں کے ساتھ آیا اور ہم ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو انہوں نے مجھے پیچھے کر دیا اور وہ مدینہ میں داخل ہو گئے اور مجھے سخت بھوک لگ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے مدینہ کے باشندے گزرے تو کہنے لگے: ”اگر آپ مدینہ میں داخل ہوں اور وہاں کے باغوں کے پھل کھا لیں۔“ میں مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوا اور دو خوشے توڑ لیے۔ باغ والا آ گیا اور دونوں خوشے میرے پاس ہی تھے۔ وہ پکڑ کر مجھے نبی ﷺ کے پاس لے گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں پوچھا تو میں نے آپ ﷺ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان دو خوشوں میں سے کون سا اچھا ہے؟“ تو میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے لو۔“ اور باغ والے سے فرمایا: ”تم دوسرا خوشہ لے لو۔“ اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔