السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل للمضطر من مال الغير باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ⦗٤⦘ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ قَالَ: " خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ "، فَإِذَا هُوَ رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو أَخُو الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ.حافظ ثناء اللہ
صالح بن ابوجبیر جو حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ بنو غفار کا غلام ان کی کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔“ تو وہ رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ جو حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔