السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل من الميتة بالضرورة باب: مجبوری کی حالت میں مردار میں سے کتنا کھانا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19642
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: مَنِ اضْطُرَّ إِلَى الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى يَمُوتَ دَخَلَ النَّارَ. وَعَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: يَأْكُلُ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُبَلِّغُهُ وَلَا يَتَضَلَّعُ مِنْهَا. قَالَ مَعْمَرٌ: وَلَمْ أَسْمَعْ فِي الْخَمْرِ رُخْصَةً.حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی جانب مجبور کیا گیا، اس نے کھایا اور پیا نہیں اور اس حالت میں فوت ہو گیا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جان بچائے، سیر ہو کر نہ کھائے لیکن شراب کے بارے میں رخصت نہیں۔